یہ دھڑے بندی

یہ ہماراالمیہ ہے ہم جب کسی شخص کو پسند کرتے ہیں تو ہم اسے محبوب بنا لیتے ہیں‘ ایک ایسا محبوب جس کی برائیاں بھی اچھائیاں لگنے لگتی ہیں اور ہم جب کسی شخص کو ناپسند کرتے ہیں تو ہم اس کی سوکن بن جاتے ہیں‘ ایک ایسی سوکن جسے سوکن کے سجدے بھی دوزخ کی آگ محسوس ہوتے ہیں‘ ہماری زندگی میں صرف دو قسم کے لوگ ہیں فرشتے یا شیطان‘ ہم فرشتے اور شیطان کے کمبی نیشن یعنی انسان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے‘ یہ المیہ اگر صرف یہاںتک رہتا تو شاید ہم اپنے خسارے سنبھال لیتے لیکن ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کے اسٹیٹس کو جس رفتار سے تبدیل کرتے ہیں وہ ناقابل یقین اور ناقابل برداشت ہے‘ ہماری زندگی میں ایک شخص ایک رات فرشتہ ہوتا ہے اور وہ اگلے دن شیطان بن جاتا ہے اور وہ شیطان چند ماہ بعد دوبارہ فرشتہ ہو جاتا ہے‘ ہماری یہ شفٹنگ حیران کن ہوتی ہے اور چوہدری نثار اس شفٹنگ‘ فرشتے سے شیطان بننے کے اس عمل کی تازہ ترین مثال ہیں اور میںیہ مثال دیکھ کر حیران سے حیران ہوتا جا رہا ہوں‘ آپ غور فرمائیے آج وہ مسلم لیگ ن جو کل تک چوہدری نثار کے سامنے دم نہیں مارتی تھی۔
جو چوہدری نثار کے رویئے کو ان کا اسٹائل کہتی تھی اور لوگ جب ان سے پوچھتے تھے چوہدری نثار رابطے میں کیوں نہیں رہتے‘ یہ شام کے بعد کہاں غائب ہو جاتے ہیں‘ یہ موبائل فون کیوں نہیں رکھتے‘ یہ پورا ہاتھ کیوں نہیں ملاتے‘ یہ پارٹی کے سینئر ترین ارکان کو بھی لفٹ کیوں نہیں کراتے اور یہ عمران خان کے ساتھ نرم رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں تو پوری پارٹی یک آواز ہو کر اسے چوہدری نثارکی ادا کہتی تھی‘ یہ لوگ کہتے تھے ’’ایماندار اور بہادر شخص ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے‘‘ لیکن جوں ہی میاں نواز شریف نے چوہدری نثار سے اپنی نظریں پھیریں چوہدری نثار‘ ان کی ادائیں‘ ان کی بہادری اور ان کی ایمانداری شیطانی کھیل بن گئی اور یہ پورے ملک میں اکیلے ہو گئے‘ ہم بھی کیا لوگ ہیں اور ہمارا بھی کیا کریکٹر ہے واہ‘ میں ذاتی طور پر چوہدری نثار کو پسند نہیں کرتا‘ یہ خبط عظمت کا شکار ہیں‘ یہ متکبر بھی ہیں لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیںکہ میں اپنی ناپسندیدگی میں ان کی اچھائیوں اور خوبیوں کو بھی مسترد کر دوں‘ میں انھیں مکمل طور پر رد کر دوں‘ یہ زیادتی ہے اور یہ زیادتی صرف ملک کی مقبول ترین جماعت‘ جماعت کی لیڈر شپ اورلیڈر شپ کے بچے کر سکتے ہیں‘ یہ میرے جیسے گناہ گار کے بس کی بات نہیں۔
چوہدری نثار اور حکومتی وزراء کے درمیان صرف موقف کا فرق ہے‘ پارٹی اس وقت دو دھڑوں میں تقسیم ہے‘ ایک دھڑاحکومتی ہے‘ اس دھڑے کے سربراہ میاں نواز شریف اور شریک سربراہ مریم نواز ہیں‘ حکومت کے 60 فیصد وزراء اور پارٹی کے ارکان اسمبلی اس دھڑے میں شامل ہیں‘ یہ دھڑا عالمی رائے عامہ کا حامی ہے‘ یہ سمجھتا ہے ہمیں پہلے اپنا ہاؤس ان آرڈرکرنا چاہیے‘ ہمیں حقانی نیٹ ورک‘ لشکر طیبہ اور جیش محمد کوحقیقت مان کر ان سے جان چھڑا لینی چاہیے اور ہمیں بھارت اور افغانستان میں مداخلت بھی بندکر دینی چاہیے‘یہ لوگ اقتدار کے ساتھ اختیار بھی لینا چاہتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں عدلیہ ہو‘ فوج ہو‘ نیب ہو‘ پارلیمنٹ ہو یا پھر خارجہ پالیسی ہو ملک کے تمام محکمے حکومت کے ماتحت ہونے چاہئیں‘ یہ آئین اور قانون کی بالادستی بھی چاہتے ہیں اور یہ قانون اور آئین کی اپنی مرضی کی تشریح بھی کرنا چاہتے ہیں جب کہ دوسرا دھڑا ان سے الٹ رائے رکھتا ہے‘ یہ دھڑا چوہدری نثار اور میاں شہباز شریف پر مشتمل ہے‘ یہ لوگ سمجھتے ہیں ہمیں اختیار ضرور لینا چاہیے لیکن ہمیں اس سے قبل پرفارم کرنا چاہیے۔
ہم پرفارم کریں گے تو پوراسسٹم ہمارے ہاتھ میں آجائے گا ورنہ دوسری صورت میں ہم ہیوی سے ہیوی مینڈیٹ بھی لے آئیں تو بھی ہماراحشر بارہ اکتوبر 1999ء سے مختلف نہیں ہو گا‘ یہ دھڑا بھی اپنا ہاؤس ان آرڈر کرنا چاہتا ہے لیکن یہ سمجھتا ہے ہمیں یہ کام خاموشی سے کرنا چاہیے‘ ہمیں دنیا کے سامنے اپنی خامیوں کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا چاہیے‘ یہ لوگ بھی قانون اورآئین کی بالادستی چاہتے ہیں لیکن یہ سمجھتے ہیں ہمیں قانون اور آئین کی بالادستی سے پہلے خود کو صادق اور امین ثابت کرنا چاہیے‘ ہم اگر خود کو الزمات سے بالاتر کر لیں گے تو قانون اورآئین خود بخود اپنی بالادستی کے ساتھ ہماری جھولی میں آ جائے گا ورنہ دوسری صورت میں ہم بار بار اس کے نیچے آ کر کرش ہوتے رہیں گے‘ فوج کی اکثریت اس دھڑے کو درست سمجھتی ہے‘ یہ سمجھتی ہے سیاستدان اختیار ضرور لیں لیکن یہ پہلے خودکو اہل ثابت کریں‘ اہلیت جانے بغیر پورا ملک ان کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
ہم جس دن ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اس صورت حال کا تجزیہ کریںگے ہم چند دلچسپ نتائج تک پہنچیں گے‘ ہم یہ ماننے پرمجبور ہوجائیں گے میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار یہ دونوں میاں نواز شریف کے وفادار اور مخلص ترین ساتھی ہیں‘ یہ دونوں آج تک پارٹی کی قیادت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں‘ فوج میاں شہباز شریف کو 1998ء سے وزیراعظم بنوانے کی کوشش کر رہی ہے‘ جنرل مشرف نے 1999ء کی حکومت توڑنے سے قبل میاں شہباز شریف کو آگے بڑھنے کا اشارہ دیا تھا‘ یہ آفر جیل میں بھی ہوئی اور میاں صاحبان جب جدہ میں تھے تو اس وقت بھی بریگیڈیئر نیاز کے ذریعے شہباز شریف کو پیش کش کی گئی‘ یہ آفر 2014ء کے دھرنے کے دوران بھی ہوئی اور انھیں 2016ء کے آخر میں بھی اشارہ دیاگیا لیکن شہباز شریف نے اپنے بھائی کو دھوکا دینے سے انکار کر دیا‘ یہ آج بھی اپنے بھائی کے ہر حکم کو آخری سمجھتے ہیں‘ این اے 120 کا الیکشن اس فرمانبرداری کی تازہ ترین مثال ہے‘ میاں نواز شریف نے انھیں سائیڈ پر ہونے کا کہا یہ الیکشن کے دوران ملک سے باہر چلے گئے۔
حمزہ شہباز کے بارے میں حکم دیا گیا‘میاں شہباز شریف نے اپنے بیٹے کو انڈر گراؤنڈ کر دیا اور میاں نواز شریف نے مریم نواز کو پارٹی کا شریک سربراہ بنا دیا، میاں شہباز شریف نے یہ بھی تسلیم کر لیا‘ یہ وفاداری اور خلوص نہیں تو پھر خلوص اور وفاداری کسے کہتے ہیں؟ چوہدری نثار بھی اس کسوٹی پر پورے اترتے ہیں‘ یہ اگر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک ہاں کر دیتے تو یہ ق لیگ کے سربراہ بھی ہوتے اور وزیراعظم بھی‘ یہ اگر 2014ء میں بھی عمران خان کے ساتھ شامل ہو جاتے تو 28 جولائی آج کے بجائے 2014ء میں آ جاتا اور یہ اگر آج بھی اعلان بغاوت کر دیں تو جنات انھیں ایک رات میں سو ایم این اے دے دیں گے لیکن یہ آج بھی میاں نواز شریف کو سمجھا رہے ہیں‘ یہ آج بھی حکومت کو غلطیوں سے روک رہے ہیں‘ میںذاتی طور پر جانتا ہوں چوہدری نثار پانامہ کیس کے شروع میں میاں نواز شریف سے ملے اور ان سے کہا ’’یہ کوئی عام کیس نہیں ہے‘ یہ ٹیکس اورمنی لانڈرنگ تک محدود نہیں رہے گا‘ یہ بڑا سیاسی بحران بن جائے گا‘ آپ اپنے بچوں کو ہمارے ساتھ بٹھائیں‘ یہ ہمیں کھل کر بتائیں یہ کیا کیا غلطیاں کرتے رہے ہیں اور ہم سب مل کر یہ کیس لڑیں گے‘‘ لیکن میاں نواز شریف نے اس آفر کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا یوں پانامہ کیس صرف شریف فیملی تک محدود ہوتا چلا گیا۔
جس کے آخر میں میاں نواز شریف اپنے خاندان سمیت فارغ ہو گئے‘ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں‘ میاں نواز شریف کو اُس وقت چوہدری نثار کی پیشکش کو سیریس لینا چاہیے تھا‘ یہ کیس اگر پوری پارٹی لڑتی تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا‘ شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنوانے میں بھی چوہدری نثار نے اہم کردار اداکیا تھا‘ میاں نواز شریف نے نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی کو 45 دنوں کے لیے وزارت عظمیٰ کی پیش کش کی لیکن عباسی صاحب نے ’’میں سیٹ وارمر نہیں ہوں‘‘ کہہ کر انکار کر دیا‘ میٹنگ میں 13 لوگ شریک تھے‘ یہ 13 لوگ گواہ ہیں چوہدری نثار نے شاہد خاقان عباسی سے کہا تھا ’’عباسی صاحب وزارت عظمیٰ ایک دن کے لیے بھی وزارت عظمیٰ ہوتی ہے اور یہ اعزاز کی بات ہوتی ہے‘‘ چوہدری نثار نے بعد ازاں شاہد خاقان عباسی کو راضی بھی کیا لیکن آج موقف کے معمولی سے اختلاف کی وجہ سے شاہد خاقان عباسی اور چوہدری نثار ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں‘ یہ دوری میاں نواز شریف کے رویئے میں بھی دکھائی دے رہی ہے‘یہ اب چوہدری نثار کو اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں‘یہ میاں شہباز شریف کی وفاداری کو بھی مشکوک سمجھ رہے ہیں۔
مجھے خطرہ ہے اگر یہ دھڑے بندی جاری رہی اور میاں نواز شریف اور چوہدری نثارکے اختلافات ختم نہ ہوئے تو میاں شہباز شریف سیاسی طور پر قتل ہو جائیں گے‘ میاں شہباز شریف ایک سیاسی سرمایہ ہیں‘ قوم نے انھیں یہاں تک پہنچانے میں بیس سال لگائے ہیں‘ انھوںنے نو برس میں صوبے کی حالت بدل کر رکھ دی‘ آپ اگرفرق دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ سندھ‘ بلوچستان اور کے پی کے سے پنجاب میں داخل ہوں آپ کوواضح تبدیلی محسوس ہو گی‘ یہ شخص بھی اگر چلا گیا یا یہ دھڑے بندی کا شکار ہو گیا تو پنجاب کو بھی سندھ بنتے دیر نہیں لگے گی اور یہ ملک کے لیے نقصان دہ ہو گا چنانچہ ہمیں سوکنوں سے اوپر اٹھنا پڑے گا‘ ہمیں دل بڑا کرنا پڑے گا‘ ہمیںچوہدری نثار اور میاں شہباز شریف کی بات سننا ہو گی‘ یہ غلط نہیں کہہ رہے‘یہ دونوں دوسری بار میاں نواز شریف کی غلطیوںکا تاوان ادا کریں گے‘ یہ زیادتی ہے‘ یہ ظلم ہے۔

Share Button

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *